المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب السكوت بين التكبير والقراءة باب: تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی (ثنا) کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ أَخْبِرْنِي مَا تَقُولُ ، قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر (تحریمہ) اور قرآت کے درمیان خاموش رہتے، میں نے آپ سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے یہ بتائیں کہ تکبیر اور قرآت کے درمیان آپ جو سکوت فرماتے ہیں، اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا: میں یہ دُعا پڑھتا ہوں: اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری ڈال دے، جتنی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان ڈالی ہے، اللہ! مجھے گناہوں سے یوں صاف کر دے، جیسے سفید کپڑا میل سے صاف ہوتا ہے، اللہ! میرے گناہوں کو برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔