حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: «بَلَى إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مَنْ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْسَ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

مروان اصفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رو بٹھایا، پھر اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے بیٹھ گئے ۔ میں نے کہا: ابوعبد الرحمن ! کیا اس (قبلہ کی جانب پیشاب کرنے) سے منع نہیں کیا گیا؟ فرمایا: جی ہاں! فضا (کھلی جگہ ) میں تو ممنوع ہے، لیکن اگر آپ کے اور قبلہ کے درمیان سترہ ہو، تو کوئی حرج نہیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 32
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبى داود: 11، السنن الكبرىٰ للبيهقي: 92/1، اس حديث كو امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 60، اور امام دار قطني رحمہ اللہ 256/1، نے ”صحيح“ كها هے. امام حاكم رحمہ اللہ 256/1 نے امام بخاري رحمہ اللہ كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي هے. علامه حازمي رحمہ اللہ الا عتبار فى الناسخ و المنسوخ، ص 38، نے حسن قرار ديا هے . حسن بن ذكوان ”مدلس“ هيں، سماع كي تصريح نهيں كي.»