المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب الجماعة والإمامة باب: جماعت اور امامت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ أَبُو يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرِّ النَّاسِ فَكُنَّا نَسْأَلُهُمْ : مَا هَذَا الأَمْرُ ؟ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ، قَالَ : انْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلامِ أَهْلِ حَوَائنا ، قَالَ : فَأَقَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ ، قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ تَلَقَّيْنَاهُ ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ ، قَالَ : جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا ، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا وَكَذَا ، وَأَنْ تُصَلُّوا صَلاةَ كَذَا وَكَذَا فِي حِينِ كَذَا ، وَصَلاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا ، فَنَظَرَ أَهْلُ حَوَائنا ، فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِلَّذِي كُنْتُ أَحْفَظُ مِنَ الرُّكْبَانِ ، قَالَ : فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتِّ سِنِينَ " .سیدنا ابو یزید جرمی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کی گزرگاہ پر موجود پانی کے پاس رہتے تھے، چنانچہ ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ یہ دین کیسا ہے؟ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرے والد اپنے محلے کے لوگوں کی طرف سے اسلام کی معلومات لینے گئے، تو جب تک اللہ تعالی نے چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے، پھر جب واپس آئے، تو ہم نے ان کا استقبال کیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر کہنے لگے، اللہ کی قسم! میں ایک سچے رسول کے پاس سے آ رہا ہوں۔ پھر فرمایا: وہ آپ کو فلاں فلاں کاموں کا حکم دیتے ہیں اور فلاں فلاں کاموں سے روکتے ہیں، نیز یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو، تو ایک آدمی اذان کہے، پھر وہ امامت کرائے، جو آپ میں سے قرآن زیادہ جانتا ہو، ہمارے محلے والوں نے غور کیا، تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کسی کو نہ پایا، کیوں کہ میں قافلے والوں سے قرآن یاد کرتا رہتا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے آگے کھڑا کر دیا، میں چھ برس کی عمر میں انہیں نماز پڑھاتا رہا۔