المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب الجماعة والإمامة باب: جماعت اور امامت کا بیان
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا ، وَلا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلا يُقْعَدُ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرائے، جو سب سے زیادہ کتاب اللہ (قرآن) کو پڑھنے والا ہو، اگر قرآت میں سب برابر ہوں، تو پھر امامت وہ کرائے، جو سنت کو زیادہ جانتا ہو، اگر سنت میں سب برابر ہوں، تو پھر وہ کرائے، جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں، تو وہ کرائے، جو سب سے زیادہ عمر رسیدہ ہو، کوئی کسی کی سلطنت میں اس کی اجازت کے بغیر امامت نہ کرائے اور نہ ہی بغیر اجازت اس کی عزت کی جگہ پر بیٹھے۔ “