المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب الجماعة والإمامة باب: جماعت اور امامت کا بیان
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رِجَالا يُقِيمُونَ الصَّلاةَ ثُمَّ آمُرُ فِتْيَانِي فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لا يَأْتُونَهَا فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا ہے کہ لوگوں کو حکم دے کر جماعت کھڑی کروا دوں، پھر میں اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ ان لوگوں کے پاس جائیں، جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھر جلا دوں، اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ اسے موٹی تازی ہڈی یا دو عمده پائے ملیں گے، تو وہ عشا کی نماز میں بھی حاضر ہو جائے گا۔ “