حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ " جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ " ، قَالَ أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ : وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ مَعَهُ حَتَّى يَخْرُجَ الإِمَامُ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو زاہریہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں سیدنا عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: بیٹھ جائیں! آپ نے لوگوں کو تکلیف اور دکھ پہنچایا ہے۔ ابو زاہریہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام کے آنے تک ہم باتیں کرتے رہے۔