حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : ثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَائِدًا لأَبِي بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَكَانَ لا يَسْمَعُ الأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلا قَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ ، فَقُلْتُ لأَبِي : إِنِّي لَيُعْجِبُنِي صَلاتُكَ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَالَ " أَيْ بُنَيَّ ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَعَ بِنَا الْجُمُعَةَ فِي الْمَدِينَةِ فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي رَوْضَةٍ يُقَالُ لَهَا : بَقِيعُ الْخَضَمَاتِ ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ رَجُلا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

عبد الرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کی بصارت ختم ہونے کے بعد ان کا رہنما تھا، چنانچہ وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے، تو فرماتے: اللہ! ابو امامہ پر رحم کرے۔ میں نے اپنے والد سے کہا: مجھے اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں، تو ابو امامہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ فرمایا: بیٹا! یہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے ہمیں ہزم النبیت نامی بستی کے ایک باغ میں جمعہ پڑھایا، جسے نقیع الخصمات کہا جاتا ہے، یہ مدینہ کے اندر حرہ بنی بیاضہ میں واقع ہے۔ عرض کیا: اس دن آپ کتنے آدمی تھے؟ فرمایا: چالیس۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 291
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : سنن أبي داود : 1069، سنن ابن ماجه : 1082، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1724) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (7013) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/281) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ (السنن الكبرى : 3/177)، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (2/56، ح: 6440) نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔»