حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَخْبَرَنِي عُمُومَةُ لِي مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : " غُمَّ عَلَيْنَا هِلالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا ، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ بِالأَمْسِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابو عمیر بن انس رحمہ اللہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں کہ ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا، تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 266
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح : مسند الإمام أحمد : 5/86 ، سنن أبي داود : 1157 ، سنن النسائي : 1558 ، سنن ابن ماجه : 1653 ، امام دارقطنی رحمہ اللہ (2/170) نے اس کی سند کو حسن اور امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری : 3/316) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن منذر رحمہ اللہ (الأوسط : 4/294) فرماتے ہیں: حَدِيثُ أَبِي عُمير بنِ أَنَسٍ ثَابِتٌ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (محلی : 3/307، مسئلہ : 552) فرماتے ہیں : هَذَا مُسْنَدٌ صَحِيحٌ، حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن : 1/218) ، حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الأحکام : 2/838 ) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر : 4/95) نے اسے صحیح کہا ہے۔»