المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في العيدين باب: عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کا بیان
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَخْبَرَنِي عُمُومَةُ لِي مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : " غُمَّ عَلَيْنَا هِلالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا ، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ بِالأَمْسِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو عمیر بن انس رحمہ اللہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں کہ ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا، تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔