حدیث نمبر: 263
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " شَهِدْتُ صَلاةَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ " . قَالَ : فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ أَجْلَسَ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلالٌ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 فَتَلا هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا : " أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ " فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ : نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ ، قَالَ : " فَتَصَدَّقْنَ " قَالَ : فَبَسَطَ بِلالٌ ثَوْبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلُمَّ ، لَكُنَّ فِدَاكُنَّ أَبِي وَأُمِّي ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلالٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز فطر ادا کی، وہ سب پہلے نماز پڑھتے تھے، بعد میں خطبہ دیا کرتے تھے، فرماتے ہیں: گویا کہ اب بھی وہ نقشہ میرے سامنے ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دے کر) اترے، تو لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھانے لگے، پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا...... الخ» آیت پڑھنے کے بعد آپ نے پوچھا: آپ اس پر قائم ہیں؟ صرف ایک عورت نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کے نبی! حسن بن مسلم کو معلوم نہیں کہ وہ عورت کون تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کیا کریں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلا کر کہنے لگے: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں صدقہ دیں، چنانچہ وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 263
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 979، صحيح مسلم : 884»