المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في صلاة الاستسقاء باب: نمازِ استسقاء (بارش کی دعا کی نماز) کا بیان
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ : ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : ثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَصَابَتِ النَّاسُ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، قَامَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا ، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهُمَا حَتَّى ثَارَ سَحَابٌ كَأَمْثَالِ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى ، فَقَامَ ذَلِكَ الأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ رَجُلٌ غَيْرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا " ، قَالَ : فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلا تَفَرَّجَتْ حَتَّى صَارَتْ مثل الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةٍ مِنَ النَّوَاحِي إِلا حَدَّثَ بِالْجُودِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قحط پڑ گیا، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ جمعہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مال برباد ہو گئے اور بچے بھوکے مر گئے، لٰہذا اللہ تعالی سے ہمارے لیے دُعا کیجیے۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو (اس وقت) آسمان پر کوئی بدلی موجود نہیں تھی، اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی آپ نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ پہاڑوں جیسے بادل اُمڈ آئے اور ابھی منبر سے نیچے نہیں اترے تھے کہ میں نے بارش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پر گرتے دیکھا، اس دن سے لے کر اگلے جمعہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی، تو (اگلے جمعے) وہی دیہاتی یا کوئی اور آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اللہ کے رسول! اب تو مکانات بھی گر گئے، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے (کہ بارش روکے)۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی: اے اللہ! ہمارے آس پاس بارش برسا اور ہم پر نہ برسا۔ غرض آپ مسجد کی جس جانب بھی ہاتھ سے اشارہ کرتے، ادھر سے ہی بدلی کھل جاتی حتی کہ مدینہ (کھل کر) آنگن کی طرح ہو گیا اور وادی قناۃ مہینہ بھر بہتی رہی، نیز مدینہ کے گردو نواح سے ہر آنے والے نے بارش کی خبر دی۔