المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في صلاة الكسوف باب: سورج گرہن کی نماز کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ مَا مِنْ أحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا»سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور بہت لمبا قیام کیا، پھر بہت لمبا رکوع کیا، پھر اٹھے اور (دوبارہ) لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا، پھر اٹھے اور لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو کہ پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، سر اٹھا کر (دوبارہ) لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا۔ نماز سے فارغ ہوئے، تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: سورج اور چاند اللہ عزوجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب ایسا منظر دیکھو، تو نماز پڑھیں، صدقہ کریں اور اللہ کا ذکر کریں۔ پھر فرمایا: امت محمد! اللہ کی قسم! اللہ عزوجل سے بڑھ کر اس بات میں کوئی غیرت والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی (مرد یا عورت) زنا کرے، اے امت محمد! اگر آپ وہ باتیں جان لیں، جو میں جانتا ہوں، تو روتے زیادہ اور ہنستے کم۔