المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في صلاة الكسوف باب: سورج گرہن کی نماز کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ مسجد میں آئے، نماز کے لیے کھڑے ہوئے، «الله اكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی، پھر «الله اكبر» کہ کر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور یہ دعا پڑھی: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد»، پھر کھڑے ہو کر لمبی قرآت کی، جو پہلی کی بہ نسبت چھوٹی تھی، پھر «الله اكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر یہ دعا پڑھی: «سمع الله لمن حمده رهنا ولك الحمد»، پھر اسی طرح دوسری رکعت ادا کی، چنانچہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے سورج صاف ہو گیا، پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ستائش بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ عز وجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب آپ گرہن دیکھیں تو فورا نماز پڑھنے لگ جائیں۔