المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في صلاة الكسوف باب: سورج گرہن کی نماز کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ، وَقَرَأْتُهُ، عَلَى ابْنِ نَافِعٍ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ قَالَ ابْنُ يَحْيَى: لَعَلَّهُمَا قَالَا: ثُمَّ رَفَعَ أَوْ لَمْ يَقُولَاهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ فَقَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُفْرِهِنَّ» ، قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ الشَّافِعِيَّ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: وَأَنَا مَالِكٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَقُلْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي شَكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: ثُمَّ رَفَعَسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ نے لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چنانچہ آپ نے سورت بقرہ (کی تلاوت) کے بقدر لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا۔ ابن یحیٰی کہتے ہیں: شاید ان دونوں نے یہ بھی کہا تھا: پھر آپ اٹھے۔ پھر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ عز وجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب آپ ایسا منظر دیکھیں تو اللہ کا ذکر کریں، صحابہ کرام نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس جگہ سے کچھ لیا ہے، پھر ہم نے آپ کو الٹے پاؤں پیچھے ہٹتے دیکھا، فرمایا: میں نے جنت دیکھی، یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا، اگر میں وہ خوشہ لے لیتا، تو رہتی دنیا تک آپ اسے کھاتے رہتے، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، ایسا (برا) منظر میں نے (پہلے) کبھی نہیں دیکھا تھا، جیسا آج دیکھا ہے، میں نے اس میں عورتوں کی کثرت دیکھی۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: ان کی ناشکری۔ کسی نے پوچھا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ فرمایا: شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ زندگی بھر کسی عورت (بیوی) سے احسان کرتے رہیں، پھر وہ آپ کی طرف سے کوئی بات مرضی کے خلاف دیکھ لے تو کہتی ہے: میں نے تو تیرے اندر کبھی خیر دیکھی ہی نہیں۔ اس روایت کو ربیع بن سلیمان نے بھی امام شافعی رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے، مگر اس میں محمد بن یحیٰی کے شک والے الفاظ (ثم رفع) کا ذکر نہیں ہے۔