حدیث نمبر: 246
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: صَلَّى بِهِمْ عَلْقَمَةُ خَمْسًا قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ زِدْتَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: فَقَالَ: لَمْ أَفْعَلْ قَالَ: قَالُوا: بَلَى قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَقُلْتُ: بَلَى مِنْ جَانِبِ الْمَسْجِدِ قَالَ: فَقَالَ: وَأَنْتَ أَعْوَرُ تَقُولُ ذَلِكَ قَالَ: فَانْفَتَلَ وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا قَالَ: فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ» ، إِبْرَاهِيمُ هَذَا هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ وَلَيْسَ بِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: علقمہ رحمہ اللہ نے انہیں پانچ رکعات نماز پڑھا دی، لوگوں نے کہا: اے ابو شبل! آپ نے نماز میں اضافہ کر دیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو اضافہ نہیں کیا، لوگوں نے کہا: آپ نے اضافہ کیا ہے، ابراہیم کہتے ہیں: میں نے بھی مسجد کی ایک طرف سے کہا: جی ہاں! (آپ نے اضافہ کیا ہے) علقمہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اوکانے! تو بھی یہی بات کہتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے مڑ کر دو سجدے کیے۔ پھر انہیں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانچ رکعتیں پڑھا دی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں بھی انسان ہوں، جس طرح آپ بھولتے ہیں، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ اس سے ابراہیم بن سوید نخعی مراد ہیں نہ کہ ابراہیم بن یزید نخعی۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 246
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم : 572»