حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ الْهِلَالِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ أَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ كَالْمُغْضَبِ، فَذَهَبَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ: «أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زوال آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی ایک ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز تھی، دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر غصے سے آگے بڑھے اور کھجور کے تنے کے پاس بیٹھ گئے، جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے کہتے چلے گئے کہ نماز کم ہو گئی ہے، نماز کم ہو گئی ہے، ذوالیدین رضی اللہ عنہ آ گے بڑھ کر پوچھنے لگے: اللہ کے رسول! نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: آپ نے (مزید) دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر تکبیر کہہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 243
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1228 ، صحيح مسلم : 573»