المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب النائم في الصلاة وقضاء الفوائت باب: نماز میں سو جانے والے اور چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کا بیان
حدیث نمبر: 240
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى آذَتْنَا الشَّمْسُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ يَتَنَحَّ عَنْ هَذَا الْمَنْزِلِ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى»ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا، سورج کی تپش نے ہی ہمیں بیدار کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص اپنے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ پھر آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور دو رکعت نماز (سنت) ادا کی، پھر اقامت کہی گئی اور فرض نماز ادا کی۔