المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب في صلاة الخوف باب: صلاۃِ خوف (خوف کی حالت میں نماز) کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ قَالَ: ثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: «يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلَا يُسَلِّمُوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّوا مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الْإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلُّوا رَكْعَتَيْنِ وَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا» قَالَ مَالِكٌ: قَالَ نَافِعٌ: مَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا، تو فرماتے: لوگوں کا ایک گروہ امام کے ساتھ آگے بڑھے اور امام انہیں ایک رکعت نماز پڑھا دے، جب کہ دوسرا گروہ نماز نہ پڑھے، بل کہ ان کے اور دشمن کے درمیان کھڑا رہے، جب وہ لوگ ایک رکعت پڑھ لیں، جو امام کے ساتھ تھے، تو وہ ان لوگوں کی جگہ چلے جائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی، سلام نہ پھیریں اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی، وہ آگے بڑھ کر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لیں، پھر امام جو کہ دو رکعتیں پڑھ چکا ہے، سلام پھیر دے، دونوں گروہ کھڑے ہو کر خود ہی ایک ایک رکعت ادا کر لیں، یوں دونوں گروہوں کی دو دو رکعتیں ادا ہو جائیں گی، اگر خوف بہت زیادہ ہو جائے، تو کھڑے کھڑے نماز پڑھ لیں یا سوار ہو کر پڑھ لیں، نیز منہ قبلہ کی جانب ہو یا کسی اور جانب۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی بیان کیا ہے۔