المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في صلاة القاعد باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں جو مروی ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ "سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے پہلو پر خراشیں آ گئیں، ہم آپ کی عیادت کرنے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، تو ہم نے بھی (آپ کے پیچھے) بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز پوری کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام صرف اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے، تو آپ بھی تکبیر کہیں، جب وہ رکوع کرے، تو آپ بھی رکوع کریں اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے، تو آپ بھی سر اٹھا لیں، جب وہ «سمع الله لمن حمده» (اللہ نے اسے سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی) کہے، تو آپ «ربنا ولك الحمد» (ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں) کہیں، جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، تو آپ بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔