المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في صلاة المسافر باب: مسافر کی نماز کے بارے میں جو مروی ہے
حدیث نمبر: 224
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: ثَنِي عُقْبَةُ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ» ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ مَكَثْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشَرَةَ أَيَّامٍابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا، تو آپ مدینہ واپس آنے تک نماز دو دورکعت ادا کرتے رہے۔ یحیٰی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے مکہ میں کتنے دن قیام کیا تھا؟ فرمایا: ”دس دن۔“