حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ ابْنَ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي فإنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ قَالَ: «فَلَا تَأْتِهِمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَتَطَيَّرُونَ فَقَالَ: «ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ» ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «كَانَ نَبِيُّ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ» ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَأَطْلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ آسِفٌ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: «ائْتِنِي بِهَا» ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ: «هِيَ مُؤْمِنَةٌ فَأَعْتِقْهَا»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، تو میں نے کہ دیا «يَرْحَمُكَ اللهُ» لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں، تو میں چپ کر گیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں نے آپ سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی استاذ ایسا نہیں دیکھا، جو آپ سے بہتر تعلیم دینے والا ہو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا، نہ برا بھلا کہا، نہ مارا، صرف اتنا فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں۔ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔ یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے، ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نہ جایا کریں۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں؟ فرمایا: یہ محض ان کا وہم ہے۔ یہ فال وغیرہ انہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ خط (لکیریں) کھینچتے ہیں؟، فرمایا: ایک نبی (ادریس علیہ السلام) خط کھینچا کرتے تھے، پس جس کا خط اس کے موافق ہو گیا، وہ تو درست ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میری ایک لونڈی احد اور جوانیہ پہاڑ کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن میں اس کے پاس گیا، تو ایک بھیڑیا اس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے کے جا چکا تھا، چونکہ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی ان کی طرح غصہ آ گیا، میں نے اس (لونڈی) کو زور دار تھپڑ مار دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا، تو آپ نے اسے میرے حق میں بہت بڑا گناہ خیال کیا۔ عرض کی کہ میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لائیں۔ میں اسے آپ کے پاس لے آیا، تو آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مؤمنہ ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 212
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 537»