حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ صَفَّحْتُمْ إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ "
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا ہو گیا ہے، جب آپ کو نماز میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے، تو تالیاں بجانے لگتے ہیں؟ حالانکہ یہ حکم تو صرف خواتین کے لیے ہے، اگر کسی کو نماز میں کوئی مسئلہ در پیش ہو جائے تو وہ «سبحان الله» کہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 211
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 684، صحیح مسلم: 421»