حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحَذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَنٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ وَعَلَيْهِمْ جَلُّ الثِّيَابِ تُحَرِّكُ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ پھر میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کانوں کے برابر اٹھائے، پھر دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت، کلائی اور کلائی کے جوڑ پر رکھا، پھر رکوع کیا، تو اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر سجدے میں گئے، تو ہاتھ کانوں کے برابر رکھے، پھر جب بیٹھے، تو بائیں پاؤں کو بچھایا اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کا کنارہ دائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر اپنی دو انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنایا، پھر انگلی کو اٹھایا، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور دُعا پڑھ رہے تھے۔ پھر سردی کے موسم میں آنا ہوا، تو لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے کپڑے کی بڑی بڑی چادریں لی ہوئی ہیں اور نیچے سے ان کے ہاتھ (رفع الیدین کے لیے) حرکت کر رہے ہیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 208
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/318، سنن أبي داود: 727، سنن النسائي: 889، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (480، 714) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1860) اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (زاد المعاد: 1/231) نے صحیح کہا ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع: 3/312) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔»