حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: ثَنِي الْحَكَمُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً أَوْ أَلَا أُحَدِّثُكَ؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْنَا أَوْ قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابن ابی لیلٰی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے تو کہنے لگے: کیا میں تجھے تحفہ نہ دوں؟ یا یوں کہا: کیا میں آپ کو حدیث نہ بیان کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟، فرمایا: یوں کہیں: اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحمت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی ہے، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 206
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 6357، صحیح مسلم: 406»