المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ هوَ لَقَبُهُ عَارِمٌ، وَكَانَ بَعِيدًا مِنَ الْعَرَّامَةِ ثِقَةً صَدُوقًا مُسْلِمًا قَالَ: ثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَلُ قَالَ: ثَنَا هِلَالٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ قَالَ: أَرْسَلَ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر پانچوں نمازوں کے بعد مسلسل قنوت (نازلہ ) کیا ، جب آخری رکعت کے رکوع سے اٹھ کر «سمع الله لمن حمده» کہتے تو قبیلہ بنو سلیم (رعل ، ذکوان) کے خلاف بد دعا کرتے اور مقتدی آمین کہتے ، راوی کہتے ہیں: آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے (مبلغ ) بھیجے تھے ، جنہیں انہوں نے قتل کر دیا۔ عکرمہ کہتے ہیں قنوت (نازلہ) کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔