حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِينِي عَنِ الْقُرْآنِ فَقَالَ: «قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» قَالَ سُفْيَانُ: زَادَ يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ الرَّجُلُ: هَذَا لِرَبِّي فَمَا لِي؟ قَالَ: «قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي» ، قَالَ الرَّجُلُ: أَرْبَعٌ لِرَبِّي وَأَرْبَعٌ لِي
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! مجھے ایسی چیز سکھا دیں، جو قرآن کی جگہ مجھے کفایت کر جائے، فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ» کہیے۔ سفیان کہتے ہیں: ابو خالد واسطی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اس آدمی نے کہا: یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہے؟ فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي» اے اللہ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت اور عافیت دے۔ ) پڑھیے۔ اس شخص نے کہا: چار کلمات میرے رب کے لیے ہیں اور چار ہی میرے لیے ہیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 189
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/353، 356، سنن أبي داود: 832، سنن النسائي: 925، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (544)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1808، 1809، 1810) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (2411) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ ابراہیم سکسکی راوی ”حسن الحدیث“ ہے۔»