المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في الأذان باب: اذان کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ وَاحِدَةً غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ثَنَّى بِهَا فَإِذَا سَمِعْنَاهَا تَوَضَّأَنَا وَخَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ "، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: أَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ مُسْلِمُ بْنُ مِهْرَانَ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ.ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اذان کے کلمات دو دو بار تھے اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار تھے ، البتہ «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» دو بار کہا جاتا تھا ، ہم اقامت سن کر وضو کرتے اور نماز کے لیے آتے ۔ ابو محمد کہتے ہیں: ابو مثنیٰ کا نام مسلم بن مہران ہے وہ کوفہ کی مسجد کے مؤذن تھے ۔