المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
ما جاء في الأذان باب: اذان کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ عُمَرَ، قَالَا ثَنَا: سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ، قَالَ أَيُّوبُ: إِلَّا الْإِقَامَةَ الْحَدِيثُ لِابْنِ إِدْرِيسَ.ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے ایک ایک بار کہنے کا حکم دیا گیا۔ یہ حدیث ابن ادریس کی ہے ، جب کہ ایوب نے کہا ہے: «قَدْ قَامَتِ الصَّلوةُ» » کے علاوہ (یعنی اسے دو بار کہنا ہے۔ )