المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
فرض الصلوات الخمس وأبحاثها باب: پانچ نمازوں کی فرضیت اور ان سے متعلقہ ابحاث
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيةٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ».سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے متعلق پوچھا: «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ» (اگر تم خوف کی حالت میں ہو ، تو نماز قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ) لیکن اب تو لوگ امن میں ہیں (لہذا اب قصر نہیں کرنا چاہیے ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری طرح مجھے بھی تعجب ہوا تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالی نے تم پر صدقہ کیا ہے، لہذا اس کے صدقہ کو قبول کرو۔