حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ وَثَنِي مُطَرِّفٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ» ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ "، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ» ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ» ، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ» ، قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

طلحہ بن عبید اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک نجدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، آواز کی بھنبھناہٹ تو سنائی دے رہی تھی لیکن بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ، یہاں تک کہ وہ (آپ کے) قریب ہو گیا، اس نے آپ سے اسلام کی بابت دریافت کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے پوچھا: اس کے علاوہ کوئی اور نماز بھی فرض ہے؟ فرمایا: نہیں ! مگر نفلی نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے بھی فرض ہیں ۔ پوچھا: اس کے علاوہ کوئی اور روزہ بھی مجھ پر فرض ہے؟ فرمایا: نہیں ! ہاں نفلی روزے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ (زکوۃ) کے متعلق بتایا، اس نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی صدقہ فرض ہے؟ فرمایا: نہیں ! مگر نفلی صدقہ ہے۔ اس کے بعد وہ جاتے ہوئے کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم ! میں اس میں کوئی اضافہ کروں گا ، نہ کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، تو کامیاب ہو گیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 144
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 46، صحيح مسلم: 11»