حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: ثَنَا زُهَيْرٌ، وَشَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ لَنَا طُرُقًا مُنْتِنَةً فَتُمْطِرُ فَقَالَ: «أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ أَطْيَبُ مِنْهَا؟» ، قَالَتْ: بَلَى قَالَ: «فَهَذَا بِهَذَا».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

بنو عبد الاشہل کی ایک عورت بیان کرتی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہمارے راستے گندے ہیں اور بارش برستی ہے (جس سے کیچڑ ہو جاتا ہے، تو ہم کیا کریں ) فرمایا: کیا اس کے بعد کوئی صاف راستہ نہیں آتا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! (آتا ہے ) فرمایا: یہ صاف راستہ اس کا متبادل ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 143
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند أحمد: 435/6، سنن أبى داود: 384، سنن ابن ماجه: 533»