المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
باب التنزه في الأبدان والثياب عن النجاسات باب: بدن اور کپڑوں کو نجاستوں سے پاک رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا» ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَعَجَّلَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَنَهَاهُمْ وَقَالَ: «أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ» ، يَعْنِي بَوْلَهُ وَقَالَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ».ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا، نماز پڑھنے کے بعد کہنے لگا: اللہ ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: آپ نے تو کشادہ (چیز) کو تنگ کر دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا ، لوگ اس پر چڑھ دوڑے، آپ نے روک دیا اور فرمایا: پیشاب پر پانی کا ڈول بہا دیں، آپ کو آسانیاں کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، سختیوں کے لیے نہیں۔