حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، جَالِسَيْنِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ دَرَقَةٌ فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فَتَكَلَّمْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا: يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ فَأَتَانَا فَقَالَ: «أَوَمَا تَدْرُونَ مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَئِيلَ؟ كَانَ إِذَا أَصَابَهُمْ بَوْلٌ قَرَضُوهُ فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ڈھال تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر پیشاب کیا ، تو ہم آپس میں کہنے لگے: آپ تو عورتوں کی طرح (بیٹھ کر ) پیشاب کرتے ہیں ۔ آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: بنی اسرائیل کے آدمی کو جو سز املی تھی ، کیا وہ معلوم نہیں؟ ان کے کپڑوں کو پیشاب لگ جاتا، تو وہ انہیں کاٹا کرتے تھے ، اس آدمی نے بنی اسرائیل کو منع کر دیا ، تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 131
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 196/4، سنن أبى داود: 22، سنن النسائي: 30، سنن ابن ماجه: 346، اس حديث كو امام ابن حبان رحمہ اللہ 3127 نے ”صحيح“ اور امام حاكم رحمہ الله 184/1 نے ”صحيح“ الاسناد كها هے. اعمش رحمہ اللہ نے شرح مشكل الآثار للطحاوي 5206 ميں سماع كي تصريح كر ركهي هے.»