حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ: ثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا هَذَا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ» ، ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ فَغَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا ثُمَّ قَالَ: «لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوقبروں کے پاس سے گزرے، فرمایا: انہیں عذاب ہو رہا ہے اور یہ عذاب کسی ایسے گناہ کی وجہ سے نہیں ہے کہ جس سے بچنا کوئی مشکل کام تھا۔ ان میں سے ایک چغل خور تھا اور دوسرا اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ، پھر ایک تازہ ٹہنی منگوائی اور اسے چیر کر دو حصے کر دیے۔ ایک حصہ ایک قبر پر اور دوسرا دوسری قبر پر گاڑ دیا اور فرمایا: جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں، شاید اللہ تعالی ان کے عذاب میں تخفیف فرما دے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 130
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 218، صحيح مسلم: 292»