حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: ثَنَا أَبِي قَالَ: أَنْبَأَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عَطَاءً، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا، أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغَسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَهُمْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ثَلَاثًا قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ أَوْ التَّيَمُّمَ طَهُورًا» ، شَكَّ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ.ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سردی کے موسم میں جنبی ہو گیا۔ اس نے مسئلہ پوچھا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس نے غسل کیا، تو مر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو برباد کرے، انہوں نے اسے مار ڈالا (یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی) اللہ نے مٹی یا تیمم کو تمھارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنایا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو شک تھا، بعد میں انہوں نے یقین سے بیان کیا ہے۔