حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: ثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو (دیکھا) ایک آدمی الگ بیٹھا تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: فلاں ! آپ نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں جنبی ہو گیا ہوں اور پانی دستیاب نہیں، فرمایا: مٹی استعمال کر لیں ، یہی کافی ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 122
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 344، صحيح مسلم: 682»