المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب الوجوه التي يخرج فيها مال الفيء باب: مالِ فئی (بغیر جنگ کے حاصل مال) کے مصارف کا بیان
حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : ثنا صَفْوَانُ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ شَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ ، فَأَعْطَى الآهِلَ حَظَّيْنِ ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا " ، قَالَ : فَدُعِيتُ وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدُ عَمَّارٌ فَأَعْطَاهُ حَظًّا وَاحِدًا .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عوف بن مالک رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی چیز (مال) آتی تو آپ اسی دن ہی اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے۔ عوف کہتے ہیں: مجھے عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میری بیوی بھی تھی، چنانچہ مجھے بلایا گیا تو آپ نے مجھے دو حصے دیے، پھر بعد میں عمار رضی الله عنہ کو بلایا گیا تو آپ نے انہیں ایک حصہ دیا۔