حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ ، فَسَأَلَ : هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، دِينَارَانِ ، قَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَصَلَّى عَلَيْهِ ، قَالَ : فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ ، قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس کے ذمہ قرض ہوتا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اس کا جنازہ نہیں پڑھایا کرتے تھے۔ ایک میت لائی گئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! دو دینار ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لیں۔ ابو قتادہ رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! وہ دینار میرے ذمہ ہوئے۔ تو آپ نے اس کا جنازہ پڑھا دیا۔ جب الله تعالیٰ نے اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم پر خوشحالی کی تو آپ نے فرمایا: میں مسلمانوں کا ان کی ذات سے بھی زیادہ مستحق ہوں، جو (مسلمان) قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1111
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح : مصنف عبدالرزاق : 1162، مسند الإمام أحمد : 3/296، سنن أبي داود : 3343، سنن النسائی : 1964، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3064) نے صحیح کہا ہے۔ امام زہری مدلس ہیں لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے۔»