حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عُمَيْرٍ الأَنْصَارِيِّ بِالشَّامِ ، وَكَانَ عَامِلا لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ قَوْمًا مِنَ الأَنْبَاطِ مُشَمِّسِينَ ، فَقَالَ : مَا بَالُ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : حَبَسْتُهُمْ فِي الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ هِشَامٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الَّذِي يُعَذِّبُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا يُعَذِّبُهُ اللَّهُ فِي الآخِرَةِ " ، فَخَلَّى عَنْهُمْ عُمَيْرٌ وَتَرَكَهُمْ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عروہ کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم رضی الله عنہ، عمیر انصاری کے پاس گئے جو کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی طرف سے شام کے گورنر تھے۔ ان کے پاس کچھ نباٹ لوگوں کو دھوپ میں کھڑا پا کر ان سے پوچھا: ان کا کیا قصور ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان کو جزیہ (نہ دینے) کے جرم میں روکا ہوا ہے۔ تو ہشام کہنے لگے: میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دنیا میں لوگوں کو (بلا وجہ) تکلیف دیتا ہے آخرت کے دن الله تعالیٰ اسے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ چنانچہ عمیر نے ان کو آزاد کر دیا۔