حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ بَجَالَةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ : " اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مُحْرِمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ حَرِيمِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَصَنَعَ طَعَامًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ ، وَأُلْقَوْا وَقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

بجالہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی وفات سے ایک سال پہلے ہمارے پاس ان کا خط آیا (جس میں لکھا تھا): ہر جادوگر کو قتل کر دیں، ہر اس محرم عورت سے شادی کرنے والے مجوسی اور اس کی بیوی کو الگ الگ کر دیں جن (محرمات) کا ذکر کتاب الله میں ہے۔ انہوں نے کھانا پکایا اور اپنی ران پر تلوار رکھ لی، چنانچہ انہوں (مجوسیوں) نے گنگنائے بغیر کھانا کھایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی ڈھیر کر دی۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے حتیٰ کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1105
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 3156»