المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ذكر ما يوجف عليه والخمس والصفايا باب: وہ مال جس پر چڑھائی کی گئی، خمس اور امام کے منتخب حصے کا ذکر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَةِ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيُّ وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَوْ قِطْعَةُ جِرَابٍ ، فَقَالَ : هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو الْعَلاءِ : فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ فَإِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أَقَيْشٍ ، إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاةَ ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالصَّفِيَّ ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ ، وَأَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : قُلْنَا لَهُ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ ، وَصَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ " ، قَالَ : قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَتَرُونِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ ، فَانْصَاعَ مُدْبِرًا الْحَدِيثُ لِلأَحْمَسِيِّ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ .یزید بن عبد الله بن الشخیر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بصرہ کے (ایک محلے) مربد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آیا جس کے پاس چمڑا یا چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ وہ کہنے لگا: یہ تحریر مجھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے لکھ کر دی ہے۔ ابو العلاء کہتے ہیں: میں نے اسے پکڑا اور لوگوں کے سامنے پڑھنے لگا، اس میں لکھا تھا: بسم الله الرحمن الرحيم، یہ تحریر محمد رسول الله کی طرف سے بنو زہیر بن أقیش کے نام ہے، اگر آپ نے نماز قائم کی، زکوٰة ادا کی، غنیمت میں سے خمس ادا کیا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا حصہ اور صفی کا حصہ ادا کیا تو آپ الله اور اس کے رسول کی امان میں آجائیں گے۔ ابو العلاء کہتے ہیں: ہم نے اس سے پوچھا: کیا آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کچھ فرماتے سنا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ماہ رمضان اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے سے دل کا کینہ ختم ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا: آپ نے خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو وہ کہنے لگا: کیا خیال ہے کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ بول رہا ہوں؟ کہتے ہیں: پھر اس نے تحریر لی اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ یہ حدیث احمسی کی ہے لیکن الفاظ ملتے جلتے ہیں۔