المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ذكر ما يوجف عليه والخمس والصفايا باب: وہ مال جس پر چڑھائی کی گئی، خمس اور امام کے منتخب حصے کا ذکر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، وَبِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالُوا : ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : ثنا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ ، وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيبرَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ " ، يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا الْمَأْكَلَ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی الله عنها نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وہ میراث طلب کرنے کے لیے کسی کو سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ کے پاس بھیجا جو الله تعالیٰ نے اپنے رسول کو بطور فے دی تھی۔ اس وقت فاطمہ رضی الله عنها رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس صدقہ کا مطالبہ کر رہی تھیں جو کہ مدینہ، فدک اور خیبر کے خمس سے باقی ماندہ سے متعلق تھا۔ سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ نے فرمایا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ہماری میراث نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، آل محمد اس الله کے مال میں سے کھانے کے بقدر لے سکتے ہیں۔ انہیں اس سے زائد لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ الله کی قسم! میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صدقات میں کچھ بھی تبدیلی نہیں کروں گا اور انہیں اسی حالت میں رہنے دوں گا جس حالت میں وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں تھے اور اس کے ساتھ میں ویسے ہی معاملہ کروں گا جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔