المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ذكر ما يوجف عليه والخمس والصفايا باب: وہ مال جس پر چڑھائی کی گئی، خمس اور امام کے منتخب حصے کا ذکر
حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بنو نضیر کے مالوں میں سے سال بھر اپنے گھر والوں پر خرچ کیا کرتے تھے، یہ ان مالوں میں سے تھا جو الله تعالیٰ نے اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم کو بطور فے عطا کیا تھا، مسلمانوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ، پھر جو باقی بچ جاتا آپ اسے الله کی راہ میں گھوڑوں اور اسلحہ کی تیاری میں خرچ کر دیتے تھے۔