حدیث نمبر: 109
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ شُعْبَةُ: وَزَعَمَ فُلَانٌ أَنَّ الْحَكَمَ كَانَ لَا يَرْفَعُهُ فَقِيلَ لِشُعْبَةَ: حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ وَدَعَ قَوْلَ فُلَانٍ وَفُلَانٍ فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنْ أَعْمُرَ فِي الدُّنْيَا عُمْرَ نُوحٍ وَإِنِّي تَحَدَّثْتُ بِهَذَا أَوْ سَكَتُّ عَنْ هَذَا.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مذکور ہے۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: فلاں شخص کہتا ہے ، حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرفوع بیان نہیں کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ سے کسی نے کہا: فلاں فلاں کی بات چھوڑیے اور جو سنا ہے، ہمیں بیان کر دیجیے ، فرمایا: اگر مجھے اس حدیث کو بیان کرنے ، یا نہ کرنے کے عوض دنیا میں عمرِ نوح (علیہ السلام ) بھی مل جائے ، تو بھی مجھے خوشی نہ ہو گی۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح انظر ما قبله
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: انظر ما قبله»