المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب الدليل على أن الغنيمة لمن شهد الوقيعة باب: اس بات کی دلیل کہ غنیمت صرف اسی کی ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقِيرَاطِيُّ ، قَالَ : أنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَوَافَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا ، أَوْ قَالَ : فَأَعْطَانَا مِنْهَا ، وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ ، إِلا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ ، قَسَمَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہماری ملاقات رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہوئی، آپ نے ہمارا حصہ بھی نکالا۔ یا یوں بیان کیا کہ آپ نے اس میں سے ہمیں بھی دیا، جو لوگ فتح خیبر میں شریک نہیں تھے آپ نے ان میں سے کسی کو بھی حصہ نہیں دیا تھا، صرف شرکائے غزوہ اور ہماری کشتی کے ساتھیوں یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو (جو جنگ میں شریک نہیں تھے) حصہ دیا۔