المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب الدليل على أن الغنيمة لمن شهد الوقيعة باب: اس بات کی دلیل کہ غنیمت صرف اسی کی ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ ، فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا ، وَأَنَّ خُزُمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ ، فَقَالَ أَبَانُ : اقْسِمْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقُلْتُ : لا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ أَبَانُ : أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ يَا أَبَانُ ، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ أَعْطَى مِنْ خَيْبَرَ جَعْفَرَ وَأَصْحَابَهُ " .سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سیدنا ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر مقرر کر کے مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا، ابان اور اس کے ساتھی فتح خیبر کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے گھوڑوں کے تنگ کھجور کی چھال کے تھے، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: الله کے رسول! ہمارا حصہ بھی تقسیم کر دیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں: میں نے کہا: الله کے رسول! ان کا حصہ نہ نکالیں، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے وبر! (بلی سے چھوٹا ایک جانور ہے) تم یہ بات کہتے ہو، حالانکہ تم ابھی ضان (پہاڑ) کی چوٹی سے اتر کر ہمارے پاس آئے ہو، تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابان بیٹھ جائیے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کے لیے کوئی حصہ نہیں نکالا۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو خیبر (کی غنیمت) سے حصہ دیا تھا۔