المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب الرضخ للمرأة والمملوك يحضرون القتال باب: جنگ میں حاضر ہونے والی عورت اور غلام کو (غنیمت سے) کچھ عطیہ دینا
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ، قَالَ : ثنا عَفَّانُ ، قَالَ : ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : ثني قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، قَالَ : فَشَهِدَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ ، وَحِينَ كَتَبَ إِلَيْهِ ، قَالَ " وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ : هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا اور ان سے مختلف مسائل دریافت کیے، یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب ان کا خط پڑھا اور انہیں اس کا جواب لکھا تو اس وقت میں ان کے پاس موجود تھا، آپ نے فرمایا: تو نے مجھ سے عورت اور غلام کے متعلق پوچھا ہے کہ اگر وہ جنگ میں شامل ہوں تو کیا (غنیمت میں) ان کا حصہ مقرر ہے؟ ان دونوں کا کوئی حصہ مقرر نہیں تھا، بس قوم کی غنیمتوں میں سے انہیں کچھ تحفہ دے دیا جاتا تھا۔