حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى ، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، وَأَمَّا سَهْمٌ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

یزید بن ہرمز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا: آپ نے مجھ سے یہ پوچھنے کے لیے خط لکھا ہے کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے؟ تو (جواب یہ ہے کہ) آپ صلی الله علیہ وسلم انہیں جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کیا کرتی تھیں اور انہیں غنیمت میں سے تحفہ بھی دیا جاتا تھا، البتہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کا حصہ مقرر نہیں کیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1085
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 1812»