المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في التغليظ على الغال، وفي أين يوضع الخمس باب: غنیمت میں خیانت کرنے والے پر سخت وعید اور خمس کا مصرف
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ هُوَ الأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ مَوْلًى لَهُمْ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا يَحْيَى ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهِمْ ، قَالَ : إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ ، وَاللَّهِ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ " .سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان آدمی خیبر کے دن وفات پا گیا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا گیا کہ آپ اس کا جنازہ پڑھیں تو آپ نے فرمایا: خود ہی اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لیں۔ لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے، جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کی حالت دیکھی تو فرمایا: آپ کے اس ساتھی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے۔ صحابی کہتے ہیں: ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہودیوں کا ایک موتی ہمیں ملا۔ الله کی قسم! اس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں تھی۔