المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب كراهية السير في بلاد العدو قبل انقضاء مدة العهد باب: معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے دشمن کے ملک میں پیش قدمی کی کراہت
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ ، قَالَ : فَكَانَ يَسِيرُ حَتَّى يَكُونَ قَرِيبًا مِنْ أَرْضِهِمْ ، فَإِذَا انْقَضَتِ الْمُدَّةُ غَزَاهُمْ ، قَالَ : فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءً لا غَدْرَ ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءً لا غَدْرَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلا يَشُدَّ عُقْدَةً وَلا يَحِلَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا ، أَوْ يُنْبَذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ " ، قَالَ : فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْجُيُوشِ .سیدنا سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان معاہدہ تھا، وہ چلتے چلتے ان کے علاقے کے قریب چلے گئے اور جب معاہدہ پورا ہو گیا تو ان پر حملہ کر دیا، ایک آدمی جس کا نام عمرو بن عبسہ تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور کہنے لگا: الله أكبر، عہد پورا کریں اور عہد شکنی نہ کریں، میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو وہ مدت معاہدہ پوری ہونے سے پہلے یا انہیں معاہدہ ختم کرنے کی اطلاع کرنے سے پہلے نہ اسے پختہ کرے اور نہ اسے توڑے (یعنی کوئی تبدیلی نہ کرے)۔ راوی کہتے ہیں: یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ لشکر واپس لے آئے۔