المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الأحكام باب: احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ : ثني عَبَّادُ بْنُ اللَّيْثِ قَالَ : ثني عَبْدُ الْمَجَيدِ هُوَ ابْنُ أَبِي زَيْدٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : أَلا أُقْرِئَكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا ، فَإِذَا فِيهِ : " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْدَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً عَبَّادٌ يَشُكُّ لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ وَلا خِبْثَةَ بَيْعِ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو وہب کہتے ہیں کہ سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ نے مجھ سے کہنے لگے: کیا میں آپ کو وہ خط نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ کر دیا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے ایک خط نکالا جس میں لکھا تھا: یہ تحریر اس بارے میں ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ہے، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی خریدی تھی، مسلمانوں کی باہمی تجارت میں دھوکہ، برائی اور حیلہ بازی نہیں ہوتی۔